19 نومبر 2013 - 20:30
ملا فضل اللہ کی قیادت؛ پاکستانی طالبان کی سفاکی میں اضافے کا امکان

پاکستانی سیکورٹی فورسز کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے انتہائی چوکس حالت میں ہیں کیونکہ تحریک طالبان پاکستان کی نئی قیادت اپنی پر تشدد کارروائیاں شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

ابنا: تحریک طالبان پاکستان کے نئے رہنما ملا فضل اللہ کی جانب سے مزید حملوں کا وعدہ کیے جانے کے بعد پاکستانی فورسز انتہائی چوکس حالت میں ہیں۔ حکیم اللہ محسود کی موت کے بعد اس کا جانشین منتخب کرنے کی اندرونی کشمکش میں 40 سالہ ملا فضل اللہ عرف ملا ریڈیو یا ریڈیو ملا کامیاب امیدوار کی حیثیت سے ابھرا تھا۔

اگرچہ بعض افراد کا خیال ہے کہ فضل اللہ کی زیر قیادت تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے نئے حملوں کا آغاز کچھ ہی عرصے میں ہو جائے گا مگر ان دہشت گردانہ کارروائیوں کو کم سے کم کرنے کے ذریعے پاکستان اپنی پوزیشن مضبوط بنا لے گا۔ یہ اس کوشش کا تسلسل ہے جو پاکستان نے فضل اللہ اور اس کے حواریوں کو ضلع سوات سے بے دخل کرنے میں دکھائی تھی۔

فضل اللہ کی تاریخ سفاکانہ کارروائیوں سے عبارت ہےتجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فضل اللہ نے ماضی میں بے رحمانہ تشدد کی تاریخ رقم کی تھی۔

اس نے جولائی 2007 میں جن بم دھماکوں کی سازش تیار کی تھی اس کے نتیجے میں ضلع زیریں دیر کے علاقے چکدرہ میں پاکستانی فوج کا ایک میجر اور تین سپاہی جاں بحق ہو گئے تھے۔ اس کے تازہ ترین مظالم میں ستمبر میں ضلع دیر بالا میں میجر جنرل ثناء اللہ نیازی کے قتل کا حکم دینا بھی شامل تھا۔ اس نے ایک وڈیو میں جنرل نیازی کے قتل کے بارے میں لاف زنی کی تھی۔

فضل اللہ خواتین سے اپنی نفرت کے معاملے میں بد نام ہے۔ اس نے مینگورہ میں اکتوبر 2012 میں لڑکیوں کی تعلیم کی سرگرم حامی ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملے کا حکم دیا تھا۔ اس نے والدین کو اپنی بیٹیاں اسکول بھیجنے اور بچوں کو پولیو کے خلاف حفاظتی قطرے پلوانے سے بھی روک دیا تھا۔ اسے سماجی ترقی سے بھی نفرت ہے۔

مالا کنڈ ڈویژن میں تنازعے کے آغاز سے ہی اس کی خبریں دینے والے صحافی دلاور جان نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو میں کہا کہ نماز جمعہ کے خطبات میں فضل اللہ ان والدین کا نام لیتا تھا جنہوں نے اپنی بیٹیوں کو اسکول بھیجنا ختم کر دیا تھا اور وہ دوسروں کو بھی ان کی پیروی کی ترغیب دیتا تھا۔

فضل اللہ نے اسکولوں اور موسیقی اور وڈیو کی دکانوں پر بھی حملوں کی سازش کی۔

جان نے کہا کہ ملا فضل اللہ اور اس کے ساتھیوں نے متعدد بار برقی آلات کو نذر آتش کیا تھا تا کہ ٹی وی اور وی سی آر کے خلاف اپنی نفرت کا کھلم کھلا اظہار کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ جولائی اور اکتوبر 2007 کے درمیان فضل اللہ کی زیر قیادت تحریک طالبان پاکستان نے 50 بم حملے کیے جن میں سے تین خودکش تھے۔ اس دوران سی ڈی فروخت کرنے والی 70 سے زائد دکانوں کو بھی بم دھماکوں کا نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ 2009 میں فضل اللہ اور اس کے ساتھیوں کو علاقے سے بے دخل کرنے کے بعد بھی اس نے دیر، چترال، باجوڑ ایجنسی اور مہمند ایجنسی میں متعدد سرحد پار حملوں کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکام کو شبہ ہے کہ وہ اور اس کے ساتھی افغانستان میں محفوظ پناہ گاہ بنا چکے ہیں۔

سواتی عوام کا فضل اللہ کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے کا عندیہبعض افراد کو توقع ہے کہ ملا فضل اللہ تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے تشدد سے از سر نو وابستگی کا مطالبہ کرے گا۔ عسکریت پسندی کے بارے میں متعدد کتابوں کے مصنف عقیل یوسف زئی نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو میں کہا کہ قبائلی علاقوں سے خیبر پختونخواہ تک بندوبستی علاقوں میں پر تشدد حملوں کی لہر جاری رہے گی۔

سوات سے منتخب ہونے والے ایک سابق صوبائی وزیر واجد علی خان نے کہا کہ پاکستان نے اسے ماضی میں بھی روکنے کی کوششیں کی تھیں اور وہ انہیں اب بھی جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ سوات کے عوام کسی خوف و دہشت کا شکار نہیں ہوں گے۔ وہ وادی سوات میں طالبان کے سفاکانہ سلوک کے عینی شاہد ہیں اور اب سوات میں فضل اللہ کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

سوات میں کبل بار ایسوسی ایشن کے صدر سردار یوسف زئی نے اس عام رویے کو مستقل مزاجی سے منسوب کیا جو حکومتی فورسز نے ضلع سے عسکریت پسندوں کی بے دخلی کے وقت ظاہر کی تھی۔

سردار نے کہا کہ اب سوات کے عوام سیکورٹی فورسز کی مدد سے کسی کو بھی وادی میں قانون شکنی کی اجازت نہیں دیں گے۔

سخت حفاظتی انتظاماتحکام تحریک طالبان پاکستان کی انتقامی ہلاکتوں کو روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس آپریشنز خیبر پختونخواہ محمد یامین خان نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو میں کہا کہ سینئر حکام اپنے اپنے اضلاع میں حفاظتی انتظامات کو مزید سخت کرنے کے عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔

وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان کی نئی قیادت نے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور وزیر اعلٰی پنجاب شہباز شریف کو دھمکیاں دی ہیں۔ پنجاب میں حفاظتی انتظامات بڑھانے کے لیے پولیس کی بھاری نفری کو وہاں تعینات کیا گیا ہے اور تحفظ کے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

حکام نے بتایا کہ دہشت گردوں نے پنجاب میں اعلٰی سطحی شخصیات کو قتل کرنے کے لیے ایک فدائین گروپ بھیجا تھا۔

پشاور کے پولیس افسر اعجاز احمد نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ دھمکیوں کے بعد صوبائی دارالحکومت کو آنے والے تمام 93 داخلہ پوائنٹس کو بند کر دیا گیا ہے اور پولیس اور فرنٹیئر کور کی اضافی نفری کو شہر میں اور اس کے گرد تعینات کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکام نے پشاور سینٹرل جیل میں تحفظ کے انتظامات میں اضافہ کر دیا ہے۔

احمد نے کہا کہ جیل کے لیے کوئی مخصوص خطرہ نہیں ہے۔ تاہم عام دھمکیوں کے بعد سیکورٹی کی صورت حال بہتر ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پشاور کی مرکزی جیل میں فضل اللہ کا سسر اور تحریک نفاذ شریعت محمدی کا رہنما مولانا صوفی محمد قید ہے۔ صوفی اور اس کے بیٹوں کو متعدد الزامات کا سامنا ہے جن میں دہشت گردی بھی شامل ہے۔ بعض عہدیداروں کو خدشہ ہے کہ عسکریت پسند اپنے ساتھیوں کو رہا کرانے کے لیے جیل پر حملہ کر سکتے ہیں جیسا کہ انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان میں اسی سال اور بنوں میں 2012 میں کیا تھا۔

.......

/169